مصنف سبدگل
تبسم اور عطیہ لائبریری میں بیٹھی اپنے اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہی تھی کہ اچانک تبسم سے اپنے کام میں کوئی غلطی ہو گئی. اس نے افسوس سے کہا.
"کنٹرول زی کاش زندگی کی غلطیوں کو بھی کنٹرول زی سے ان ڈو کیا جاسکتا"
عطیہ نے تبسم کو کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
" یہ فلسفہ جہاں سے نکالا ہے اسی پٹاری میں واپس رکھ دو"
"میں نے ایسا کیا کر دیا ہے تم زیادہ اور ری ایکٹ کر رہی ہو "
تبسم نے غصے میں کہا.
" نہیں نہیں تمہارا بٹن( Button) اب دب گیا ہے. اگر اب تم شروع ہو گئی تو تم تمہیں بریک نہیں لگے گی. اچھا ہو گا کہ یہیں روک جاؤ تم "
عطیہ نے طنزیہ انداز میں کہا.
اسی دوران عطیہ کی نظر زاہد لڑ کے پر پڑی وہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگی اور تبسم کو اشارہ کر کے کہنے لگی کہ
" اب کی بار تو بڑے حسیں چہروں نے ایڈمیشن لیا ہے."
" لو جی پھر کسی پر کرس آگیا ہے"
تبسم نے مسکراتے ہوئے کہا.
یہ سن کر عطیہ مسکرانے لگی.
اسی دوران زاہد نے انہیں اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے دیکھ لیا تھا. زاہد نے انہیں ایک مغرورانہ مسکراہٹ دی.
اپنی چوری پکڑے جانے کے بعد عطیہ اور تبسم شرمندہ ہو کر نیچے دیکھنے لگی.
✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮
عطیہ اور تبسم کوری ڈورکے اچانک زاہد ان کے سامنے آگیا.
" آیککیوز می کیا میں آپ سے ایک سوال کرسکتا ہوں"
زاہد نے عطیہ کو مخاطب کر کے کہا.
"جی جی "
عطیہ نے کہا.
"میں نے یہ معلوم کرنا تھا کہ سمیسڑ سسٹم میں کیا ہوتا ہے؟"
زاہد نے گھبراتے ہوئے پوچھا.
عطیہ جواب دینے ہی لگتی ہے کہ تبسم سامنے آجاتی ہے.
" اس کو اپنا کچھ نہیں پتا ہوتا آپ ایک کام کریں...."
تبسم زاہد کے ہاتھ سے ڈائری پکڑ کر اس پر اپنا نمبر لکھ دیتی ہے.
" آپ یہ میرا نمبر رکھیں کچھ بھی پوچھنا ہو میرے سے پوچھیں. آئی ایم گولڈ میڈلسٹ "
زاہد کو اس کی ڈائری اس کے ہاتھ میں تھمائی اور وہاں سے جانے لگی. کچھ دور جاکر تبسم نے عطیہ سے کہا
" ویسے کتنا بھونڈا بہانہ تھا بات کرنے کا!!!"
"ہو سکتا ہے کہ اسے واقعی معلوم نہ ہو"
عطیہ نے کہا.
اس بات پر تبسم عطیہ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی.
دوسری طرف زاہد دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ یہ دونوں سینئر اس پر لائیں مار رہی تھی. وہ اس خوش فہمی کا شکار آخر کیوں نہ ہوتا. وہ بلا کا حسیں تھا. بال سنہری بھورے، آنکھیں نشیلی، باڈی بلڈر
✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮

ایک تبصرہ شائع کریں