مصنف :سبدگل
بیٹھی ہوئی ہے . کمرے میں موجود ہر لڑکی کی زبان پر اسی کے
روپ کے چرکے ہیں. باہر سے شہنائی کے سُر کانوں میں رس گھولنے لگے تو ایک لڑکی شوخی
میں بولنے لگی.
"لگتا ہے بارات آگئی ہے. چلو دیکھتے ہیں. "
یہ کہ کر ساری لڑکیاں کمرے سے جانے لگی. جب ساری لڑکیاں جاچکی تو
پہلے اُس نے اپنا زیورات اُتارے اور بھر لہنگا سیاہ برقے سے تبدیل کیا اور خاموش سے
حویلی سے باہر نکل آئی۔
حویلی جہاں تک نگاہ جاتی برقی قمقموں سے سجی ہوئی ہے ۔ ہر
طرف شہنائی اور ڈھولک کی موسیقی ہے۔ عطیہ اپنا سامان اٹھائے ان روشنیوں اور ہنگاموں
سے نکل کر اندھیرے اور خاموشی کی طرف
جانے لگتی ہے ۔
✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮
مبارک حسین حفیظ آباد کے چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے آج اس
کے گھر میں دعوت ہے تقریباً سارا خاندان جمع ہے سب لوگ دعوت اڑا رہے ہیں ۔ اسی دوران
فون کی گھنٹی بجتی ہے ۔ مبارک حسین اپنی
بھانجی رخسانہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے ۔
" بیٹا جاؤ فون دیکھو کس کا ہے اور ریسیور کام نہیں کرتا تو
سپیکر آن کرکے سننا "۔
رخسانہ فون اٹھاتی ہے ۔
"اسلام وعلیکم کون"
آگے سے آواز آتی ہے کہ
"ہم فلاں ہسپتال سے بات کر رہے ہیں یہ تبسم کے والد کا نمبر
ہے۔؟"
رخسانہ آگے سے کہتی ہے کہ
" جی جی انہی کا نمبر ہے ۔"
فون سے آواز آتی ہے کہ
"آپ کو اطلاع دینا تھی کہ تبسم مبارک کا ایک روڈ حادثے میں
میس کیریج( misscarage) ہو گیا ہے ۔"
یہ سننا تھا کہ سارے قہقہے سناٹے میں بدل گئے سب لوگ سکتے
میں چلے گئے ایک دم مبارک حسین زمیں پر گر جاتے ہیں۔ سب انہیں سنبھالنے لگتے ہیں ۔
رخسانہ بھی اپنے ماموں کی یہ حالت دیکھ کر فون کو ویسے ہی چھوڑ کر آجاتی ہے ۔
"آر یو دیر ( ?Are you there ) "
فون پر موجود خاتون یہ کہتے کہتے فون کاٹ دیتی ہے
✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮
اگلے دن
مبارک حسین کے گھر پر رخسانہ کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے۔ ایک
دم فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ رخسانہ جب دیکھتی ہے تو وہ تبسم کا نمبر تھا ۔ وہ ایک
دم فون اٹھاتی ہے اور کہتی ہے کہ
"تبسم آپی آپ ؟"
دوسری طرف سے آواز آتی ہے
" ہاں رخسانہ میں ۔ ابو کہاں ہیں ؟ "
رخسانہ روتے روتے کہنے لگی کہ
"ماموں تو چلے گئے ہیں "
"کہاں چلے گئے ہیں ؟ کب تک واپس آئیں گے اور تم رو کیوں
رہی ہو ؟"
تبسم نے پریشانی سے کہا
"ماموں ہمیشہ کے لیئے چلے گئے ہیں ۔ سب لوگ انہیں دفنانے گئے
ہیں ۔ "
یہ کہ کر رخسانہ زاروقتار رونے لگی ۔
" یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔ میں آتی ہو وہاں
----"
رخسانہ تبسم کی بات کاٹ دیتی ہے اور کہتی ہے
" نہیں تبسم آپی آپ نہ آنا پلیز کیونکہ جو کہانی سن
کر ماموں کی جان گئی ہے ۔ وہ کہانی سچ ہے یا جھوٹ آپ کی بھی جان لے لے گی ۔ سب یہ ہی
سمجھتے ہیں کہ آپ ہی ماموں کی قاتل ہیں ۔ وہیں رہیں جہاں ہیں۔ اب آپ کا یہاں کوئی نہیں
ہے۔ میں نے بھی آپ کی جان بچا کر آپ کی محبت کا قرض اتارا دیا یے۔ "
یہ کہہ کر رخسانہ فون بند کر دیتی ہے۔
✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮✮
.png)
ایک تبصرہ شائع کریں